محکمہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کی طرف سے پی ایچ ایچ صارفین کو بی پی ایل زمرے میں تعمیراتی لکڑی فراہم نہ کیے جانے پر عوام میں فکر وتشویش کی لہر

پی ایچ ایچ صارفین کی ریاستی سرکار سے فوری توجہ کی مانگ(عوام)

سرینگر 20 اپریل /اے پی آئی

وادی کے اطراف واکناف سے پی ایچ ایچ صارفین نالاں محکمہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کی طرف پی ایچ ایچ راشن کارڈ ہولڈروں کو بی پی ایل قیمت پر تعمیراتی لکڑی فراہم نہ کیے جانے پر عوام میں بھاری ناراضگی پائی جارہی ہے وادی کے اطراف واکناف سے پی ایچ ایچ صارفین نے خبر رسان ادارے اے پی آئی کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ امور صارفین کی طرف سے بیس فیصد صارفین کو پی ایچ ایچ راشن کارڈ اجراء کیے گئے ہیں جن پر وہ راشن حاصل کرتے ہیں جبکہ پی ایچ ایچ راشن کارڈ کو بی پی ایل زمرے میں شمار کیا جاتا ہے تاہم گزشتہ سال کے دوران تعمیراتی لکڑی میں بے پناہ اضافے نے وادی کے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ اس دوران راشن کارڈ ہولڈروں کی زمرہ بندی کی گی تو اس دوران محکمہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن نے پی ایچ ایچ صارفین کو بی پی ایل زمرے میں تعمیراتی لکڑی فراہم کرنے سے صارفین کو انکار کردیا جبکہ پی ایچ ایچصارفین نے اس بات پر سخت ردعمل ظاہر کی گی تاہم ابھی تک بھی پی ایچ ایچ صارفین کو بی پی ایل قیمتوں پر تعمیراتی لکڑی فراہم نہیں کی جاتی ہے اس معاملے کو لیکر چی ایچ ایچ صارفین نے اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ اگر چہ وہ غریبی کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں تاہم ان کو بھاری قیمتوں پر تعمیراتی لکڑی خریدنے کی طاقت نہیں ہے اور غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے صارفین کو اے پی ایل قیمت پر تعمیراتی فروخت کرنا سراسر نا انصافی ہے اور بے انتہاء ظلم ہے اس سلسلے میں اے پی آئی کو محکہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن سے ملی جانکاری کے مطابق محکمہ امور صارفین نے ابھی تک بھی اس بات کو واضع نہیں کیا ہے کہ پی ایچ ایچ صارفین ان کے ضابطے کے مطابق کس زمرے میں درج ہیں جسکی وجہ سے پی ایچ ایچ صارفین کو بی پی ایل قیمت پر تعمیراتی لکڑی فراہم نہیں کی جاتی ہے اس دوران محکمہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن کے دیوژنل منیجران نے بتایا کہ محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری کو چاہے کہ وہ اس معاملے کو واضع کردیں کہ پی ایچ ایچ صارفین کس زمرے اندراج کیے گئے ہیں اور اسی شیڈول کے مطابق انکو تعمیراتی لکڑی فراہم کی جاے گی۔تاہم پی ایچ ایچ صارفین نے تمام تر دعوے مسترد کرتے ہوئے انہوںنے ریاستی سرکار سے مانگ کرتے ہوئے بتایا کہ وادی میں تعمیراتی لکڑی کی قیمتوں میں کیے گئے بے پناہ اضافہ کو واپس لیا جائے اور وادی کے عوام کو پرانی قیمتوں پر تعمیراتی لکڑی فراہم کی جاے جس میں زمرہ بندی کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور اور عوام کو بنا زمرہ بندی کے پرانی قیمتوں پر تعمیراتی لکڑی فراہم کی جاے انہوں نے مزید بتایا کہ ایک طرف سے روزبروز وادی کی اقتصادی حالت بگڑتی جارہی ہے اور دوسری طرف سرکار کی طرف سے ہر چیز میں مہنگائی کی سطح بڑھتی جارہی ہے جو کشمیری عوام کیلئے لمہ فکریہ ہے انہوں نے بتایا کہ اگر ایک طرف سرکار نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا لیکن دوسری جانب وادی میں ملازمین کے برعکس بے روزگاری کا تناسب زیادہ ہے تاہم بے روز گار لوگوں پر بھاری ٹیکس اور بھاری مہنگائ ظلم کی انتہاء ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here