ریاستی سرکار کی طرف سے تعمیراتی لکڑی کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا مطلب سر سبز جنگلات کا صفایا ۔عوام

پیرزادہ الرشید

ریاست میں تعیراتی لکڑی کے باو میں بے پناہ اضافہ عوام میں بھاری تشویش ۔آشیانے تعمیر کرنے کیلئے تعمیراتی لکڑی سر سبز جنگلات سے حاصل کرنے کی سر کار کو دھمکی دی گئی تفصیلات کے مطابق ریاست میں اب تک عوام کورہایشی مکانات تعمیر کرنے کیلئے بہت ہی کم نرخوں پر تعمیراتی لکڑی فراہم کی جاتی تھی اور عوام بخوبی محکمہ سٹیٹ فارسٹ کارپوریشن سے تعمیراتی لکڑی حاصل کر کے رہایش کیلئے مکانات تعمیر کر کے زندگی کے دیگر معاملات کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاہم کل اس وقت غریب عوام کے ہوش کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب سرکار کی طرف سے نیے نرخوں کا حکم نامہ جاری کیا گیا ۔نمایندے کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ اب تک دیودار کی لکڑی صارفین کو ساڈھے تین سو روپے میں فی مکعب فٹ فراہم کی جاتی تھی تاہم سرکاری کی طرف سے چند روز قبل نیا نرخنامہ ریر آڈر نمبرof2018 365FST مورخہ 22.11.2018 جاری کر دیا گیا جس میں دیودار لکڑی فی مکعب فٹ کی ریٹ 1210روپے اے پی ایل کیلئے اور 712روپے بی پی ایل کیلئے درج کی گی ہے جبکہ کایرو،(bpl(458 اور 776(apl)کیلئے مقرر کی گی ہے اور بدلو لکڑی کی ریٹ aplکیلئے 403 اور bpl کیلئے237 فی مکعب فٹ مقررگی ہے جس سے عوام میں بھاری ناراضگی پائی جاتی ہے وادی کے اطراف واکناف سے لوگوں نے نماینده سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار کی طرف سے آنکھ بند کرکے تعمیراتی لکڑی پر سونے کا باو لگایا ہے جوکہ ریاست کے لوگوں کیلئے برداشت کرنا ناممکن ہے چند سماجی کارکنان نے نمایندے کو بتایا کہ ریاست میں روزبروز مالی بحران میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور وادی شدید مالی بحران میں مبتلا ء ہے تاہم اس وقت سرکار کی طرف سے عوام پر کمر توڑ نرخنامہ جاری کرنے سے وادی کے جنگلات کا مکمل طورپر صفاف ہونے کے قوئ امکانات متوقع ہیں وادی کے کئ اضلاع سے مقامی لوگوں نے نماینده سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انکو رہایش کیلئے مکانات کی تعمیر ضروری ہے کیونکہ وادی کشمیر میں ہر وقت بھاری برف باری متوقع ہے اور موسمی تبدیلیوں کو دیگر ریاستوں سے مشابہ نہیں کیا جا سکتا ہے اس دوران انہوں نے سرکار کو دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار اگر نیے نرخنامے کو کو منسوخ نہیں کرتی اور پرانے نرخنامے پر عمل نہیں کرتی ہے تو وادی کے لوگ اجتماعی طور پر سر سبز جنگلوں کا رخ کریں کے اور بزور بازو رہایش کیلئے تعمیراتی لکڑی حاصل کرنے میں گریز نہیں کریں گے اور امن وامان کی صورت حال میں رخنہ اندازی کی تمام تر ذمہ داری ریاستی سرکار پر آید ہوگی انہوں نے مزید بتایا کہ وادی کی زیادہ تر آبادی کمر توڑ مہنگائی کی وجہ بمشکل زندہ رہنے کیلئے اخراجات میسر کر رہے ہیں اور اس مہنگائ کے زمانے میں ہزاروں روپے کے عوض فی کعب فٹ تعمیراتی لکڑی کہاں سے خرید سکتے ہیں اسلے ریاستی سرکار کو چاہے کہ تعمیراتی منصوبوں کیلئے عوام کو پرانے نرخنامے پر تعمیراتی لکڑی فراہم رکھی جائے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here