اگر آج ہمارے آس پاس شک کا ماحول ہےتو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوم کے ساتھ بار بار دوکھے ہویے ہیں اور افراد نے اکثر اپنے ذاتی مقاصد کے لیے قوم کے اجتماعی مفاد کے ساتھ دغا بازی کی ہے.
اس کی سب سے بڑی مثال مجھے سال 2016 میں دیکھنے کو ملی.
برہان وانی ایجیٹیشن کے دوران جب ہر طرف ہا ہا کار مچی اور کشمیر مسلے پر ایک بار پھر بات ہونے لگی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ کرایسس پچھلے 70 سال کے دوراں کشمیریوں کے ساتھ کی گی وعدہ خلافی کا نتیجہ ہے. کچھ نے کہا کہ دو متضاد سیاسی نظریوں کا پاور کی خاطر ایک ساتھ ہونا اس کی وجوہات ہے. بعض نے حسب روایت یہ بھی کہا کہ کشمیری تو پاگل ہو گیے ہیں ان کو بہ زوربازو ذیر کرنے کے علاوہ کویی چارہ نہیں.
نارملسی لانے کے لیے سب سے بڑی آرگیومنٹ یہ تھی کہ سکول بند ہیں اور ہرتال کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے.
ایسے میں کچھ چالاک لوگوں کو ایک ترکیب سوجھی.
رہبراں قوم کا چوغہ پہن کے وہ سرکار کے پاس پہنچ گیے اور کہا کہ موجودہ ایجیٹیشن کا کشمیر مسلے سے کویی لینا دینا ہی نہیں ہے. یہ تو فقط احتجاج ہے ایک مخصوص طبقے کا جن کو دور دراز علاقوں میں نوکری کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے.
اگر سرکار ان لیڈر حضرات کو شہر سرینگر کے مضافات میں پوسٹنگ دے تو معاملات فوری طور ٹھیک کیے جاسکتے ہیں.
ڈیل ہویی. ان لیڈران کو مفت کی تنخواہ دی جایے گی. ان کو سرکاری کواٹر دیے جایہں گے. ایک مخصوص سرکاری افسر کو ہٹا دیا جایے گا.
اس کے عوض یہ چوغہ پوش سرکار کو ہڑتال توڑنے میں مدد کریںگے.
مدد ہویی.
نارملسی لانے میں سرکار کی مدد کرنا کویی گناہ نہیں ہے.
لیکن ذاتی مقاصد کے لیے سرکار کے ساتھ لین دین کرنا اور قوم کی قربانیوں کو جھٹلانا گھنونے پن کی سب سے بڑی مثال ہے.
قوم کیوں کر اب کسی پر اعتماد کرے.
اسی لیے میں کہتا ہوں کہ آپ کے سوال حق بجانب ہیں.
اپنے لیڈروں سے سوال پوچھتے رہیے.
کبھی موقع ملا تو ان ضمیر فروشوں کے نام آپ کے ساتھ ضرور شییر کروں گا.

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=10156984306633351&id=528278350

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here