نیشنل کانفرنس کی ناکامیوں نے ہی کشمیریوں کے منڈیٹ کو تقسیم کیا ہے:انجینئر رشید
کہا مین اسٹریم کے سیاستدان کشمیریوں کو اپنی لونڈی سمجھنا بند کریں،لوگوں سے بھی سنجیدہ ہونے کی اپیل

ہندوارہ//09/جنوری

عمر عبداللہ کی جانب سے لوگوں سے آنے والے انتخابات میںمنقسم منڈیٹ کی بجائےفیصؒہ کن منڈیٹ دینے کی اپیل کو بروقت بتاتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے اسکی حمایت کی ہے۔تاہم انہوں نے گیند کو عوامی پالے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو ان سبھی طاقتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیئے کہ جونئی دلی کے ایجنٹ بن کر مختلف طریقوں سے مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو کمزور کرتے ،خاندانی راج کو مظبوط کرتے اور وی آئی پی کلچر و رشوت خوری کو بڑھاوا دیتے چلی آرہی ہیں۔ہندوارہ میں مختلف عوامی اجتماعات میں بولتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ عمر عبداللہ کو حق ہے کہ وہ لوگوں سے اپنی پارٹی کیلئے فیصلہ کن منڈیٹ مانگیں لیکن انکی یہ بتانا انکی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ جو واضح منڈیٹ انہیں اس سے پہلے،باالخصوص 1996میں کہ جب ریاست تشدد کے ایک بھیانک دور سے گذری تھی،ملا تھا اسکا انہوں نے کیا کیا اور اس سے لوگوں کو کیا حاصل ہوا تھا“۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ اقتدار کے گلیاروں تک کون پہنچ پاتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل قریب میں لوگوں کی مشکلات اور مصائب کے خاتمہ کی کوئی سبیل بھی ہے کہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ امر واقعہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اسمبلی سیٹوں کیلئے کوششوں سے زیادہ ضروری مسئلہ کشمیر کا حل ہے کہ جسکی وجہ سے ریاستی عوام کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بات سے انکار ممکن نہیں ہوسکتا ہے کہ پی ڈی پی کے قیام سے منڈیٹ تقسیم ہوا ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ برحق ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس نے 1996کے انتخابی منشور کے فقط دس فیصد کو پورا کیا ہوتا تو اسے58کی بجائے محض پندرہ سیٹوں پر نہیں سکڑنا پڑا ہوتا۔انجینئر رشید نے کہا کہ مین اسٹریم پارٹیوں کو چاہیئے کہ وہ کشمیری عوام کو اپنی لونڈی سمجھنا اور انہیں بار بار بیوقوف بنانے کی کوشش کرنا بند کریں۔تاہم انجینئر رشید نے ساتھ ہی عوام سے بھی ووٹ دینے سے قبل اپنے ضمیر سے پوچھنے کی اپیل کی اور کہا کہ اگرچہ لوگ بہترین جج ہیں اور انکی دانشمندی پر سوال اٹھانے کا کسی کو حق نہیں ہے لیکن یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ لوگوں کو روایتی مین اسٹریم سیاست کو رد کرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان طاقتوں کیلئے ووٹ کرنا چاہیئے کہ جنکے ہاتھ بے داغ ہوں اور جو کشمیر میں نئی دلی کی ترجمانی نہیں کرتے ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات انتہائی بدقسمتی کی ہے کہ لوگ پہلے ایک پارٹی کو بلا سوچے بھاری منڈیٹ دیتی ہے اور جب وہ اقتدار کے نشے میں دھت ہوکر اپنے وعدے پورا کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو لوگ پچھتانے لگتے ہیں حالانکہ اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کی بار لوگوں کو سنجیدگی سے سوچتے ہوئے ان طاقتوں کو مظبوط کرنا چاہیئے کہ جو دھوکہ بازی کی سیاست کرنے کی بجائے مسئلہ کشمیر کے حل اور لوگوں کی دیگر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک واضح پروگرام رکھتی ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here